بنگلورو7؍اکتوبر(ایس او نیوز) سابق وزیر اعظم اور جنتادل (ایس) صدر ایچ ڈی دیوے گوڈا نے ایک بار پھر وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کرکے کاویری آبی تنازعہ کو جلد ازجلد سلجھانے پر زور دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کاویری تنازعہ کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے وکیل وجئے کمار کے ذریعہ انہوں نے تمام جانکاری حاصل کی ہے۔اس جانکاری کی بنیاد پر وہ وزیراعظم سے دوبارہ گذارش کریں گے کہ کرناٹک کے ساتھ کاویری معاملے میں ناانصافی نہ ہونے پائے۔انہوں نے کہاکہ دسہرہ تہوار کے فوراً بعد وہ مودی سے ملاقات کرنے والے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پچھلی مرکزی حکومتوں نے گجرات کے نرمدا تنازعہ کو سلجھانے کیلئے جو طریقۂ کار اپنایا وہی طریقۂ کار کاویری کیلئے بھی اپنایا جائے ۔ملک کی تین اہم ریاستوں ، راجستھان ، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹرا کے درمیان دریائے نرمدا کے پانی کی تقسیم کا تنازعہ ٹکراؤ کا سبب بنا ہوا تھا ، بحیثیت وزیر اعظم انہوں نے تینوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کی میٹنگ طلب کی اور اس میں معاملے کو آسانی سے سلجھالیا گیا۔وزیر اعظم مودی کو بھی اسی طرح سے تینوں ریاستوں کی میٹنگ کا اہتمام کروانا چاہئے۔ کاویری مسئلے پر مودی کو تملناڈو کے دباؤ میں آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ کاویری تنازعہ پر فی الوقت سپریم کورٹ میں جو دو ججوں کی بنچ سماعت کررہی ہے اس بنچ کو وسعت دینے اور تین ججوں پر مشتمل کرنے کیلئے بھی وہ وزیر اعظم سے گذارش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دو ریاستی حکومتوں کی طرف سے اگر ایک بھی سپریم کورٹ کی توسیعی بنچ کے سامنے معاملہ پیش کرنے کی خواہش ظاہر کرے تو سپریم کورٹ کو یہ معاملہ سلجھانا ہوگا۔ دیوے گوڈا نے کہاکہ کاویری آبی تنازعہ ٹریبونل کے فیصلے کے متعلق حکومت کرناٹک کی طرف سے دائر ایس ایل پی پر فیصلہ سپریم کورٹ میں 18 اکتوبر کو ہونے جارہا ہے۔ اس کیلئے ریاستی حکومت کی طرف سے کیا تیاریاں کی گئی ہیں، اس کا انہیں کوئی علم نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ انگریزوں کے دور اقتدار میں 1924 کے دوران دریائے کاویری کے پانی کی تقسیم کو لے کر جو معاہدہ ہواتھا اس کے بعد اب تک اس معاملے میں کوئی بھی ٹھوس معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ کسی بھی حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے سلجھانے کی کوشش نہیں کی ہے۔ حال ہی میں اس ضرورت کو شدت سے محسوس کیاجارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جس وقت ملیکارجن کھرگے ریاستی وزیر آبی وسائل رہے تب بھی اور جب سدرامیا نائب وزیراعلیٰ رہے تب بھی ان مسئلوں کو سلجھانے کیلئے جنتادل (ایس) کی طرف سے خصوصی توجہ دی گئی تھی۔ دیوے گوڈا نے کہاکہ کاویری معاملے میں سپریم کورٹ نے جس طرح بارہا یکطرفہ فیصلے صادر کئے ہیں، اب تک کسی بین ریاستی عدالت میں ایسے فیصلے نہیں ہوئے ہوں گے۔ اس موقع پر وکیل وجئے کمار نے بتایا کہ ان کا تعلق کاویری طاس سے ہے ۔منڈیا ضلع کی 2.2 لاکھ ایکڑ زمین کیلئے آبپاشی کی سہولت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ساتھ ہی ان علاقوں میں پینے کے پانی کی ضروریات پر بھی حکومتوں کو متوجہ ہونا چاہئے۔ وجئے کمار نے بتایاکہ دہلی میں پینے کے پانی کے مسئلے کو سلجھانے کیلئے وہاں کی حکومت نے جو طریقۂ کار اپنایا ہے اسی کو شہر اور ریاست میں تجربے کی بنیاد پر اپنایا جاسکتا ہے۔